Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
24اکتوبر1997
حافظ حامد حسن علوی (وفات1959)ایک روز کوہنڈہ کے کھلیان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک قافلہ گزرا جو سروں پر گھڑی لیے ہوئے چلا جارہا تھا۔ جونپور کے پاس ایک تالاب ہے جس کو دھپاپ کہا جاتا ہے۔ہندو عقیدہ کے مطابق یہاں نہانے سے مکتی ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ہندو ہر سال وہاں جاکر اشتاق کرتے ہیں۔ اس روزقافلہ میں ایک داڑھی والا آدمی بھی شریک تھا جو بظاہر مسلمان دکھائی دیتا تھا۔ حافظ صاحب قبلہ نے اس کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ کیا تم مسلمان ہو۔ اس نے کہا ہاں۔اس نے اپنا نام دین محمد بتایا حافظ صاحب مرحوم نے کہا کہ یہ تو ہندوؤں کی رسم ہے تو وہاں کیوں جارہے ہو۔ دین محمد جو ایک جاہل دیہاتی آدمی تھااس نے جواب دیا: میں تو دھپاپ بھی جاتا ہوں اور کچھ چھابھی جاتا ہوں۔ میں ہندو اور مسلم دونوں پوتراستھان پر جاتا ہوں۔ کہیں نہ کہیں تو ٹھکانہ لگ جائے گا۔
یہ جاہل مسلمان تو شاید اللہ تعالیٰ کے یہاں معاف ہوجائے مگر وہ عالم مسلمان کسی طرح بھی قابل معافی نہیں جو حق اور باطل کے فرق کو جانتے ہیں اس کے باوجود وہ ایسا کررہے ہیں کہ جہاں حق بات بولنے میں فائدہ ہے وہاں وہ حق بات بولتے ہیں اور جہاں خلاف حق بات بولنے میں مقبولیت دکھائی دے وہاں دوسری تقریر کرنے لگتے ہیں۔