Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20دسمبر1997
مدرسہ کی تعلیم کے زمانہ میں میرے ساتھیوں میں فیض آباد کے ایک صاحب تھے۔ وہ اکثر انوکھی باتیں کیا کرتے تھے۔ مثلاً مدرسہ کے ایک باورچی کا نام پانچوتھا ۔اس کو وہ خامس حسین ولد فائو علی کے نام سے پکاراکرتے تھے۔ ان کی اس طرح کی باتوں کی بنا پر اس وقت میں ان کو ایک ذہین نوجوان سمجھتا تھا۔ مدرسہ کی زندگی کے بعد ان سے رشتہ ٹوٹ گیا1947کے بعد وہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) چلے گئے پھر وہاں سے پاکستان ہوتے ہوئے بحرین پہنچے اور اب وہ بحرین میں مقیم ہیں۔
حال میں تقریباً55سال بعد ان سے ملاقات ہوئی۔ اب ان سے گفتگو کے دوران میراتاثر مختلف تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ صرف اوسط درجہ کے ایک آدمی ہیں، اور معاملات پر گہرے انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ اس قسم کا تاثر مجھے اکثر ان دوسرے لوگوں کے بارے میں ہوتا ہے، جن سے لمبے عرصہ کے بعد ملاقات ہوئی ہو ۔اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ عام طور پر لوگ بس حیوان کا سب بن کر رہ جاتے ہیں وہ مطالعہ اور تجربہ کے اس کورس سے نہیں گذرتے جو کسی آدمی کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے۔