Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
8اگست1997
مولانا انیس لقمان ندوی2اگست کو دہلی آئے۔ اور8اگست کو واپس گئے۔ بمبئی سے وہ ابوظہی کے لیے روانہ ہوں گے۔ ایک گفتگو کے دوران میں نے ان سے کہا کہ آپ کا ایک پلس پائنٹ ہے اور ایک مائنس پائنٹ۔ آپ کا پلس پائنٹ یہ ہے کہ آپ کے اندر ذہنی انضباط (Mental discipline) کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ اور آپ کا مائنس پائنٹ یہ ہے کہ آپ کے اندر وہ کمزوری ہے جو عام طور پر ذہین لوگوں میں ہوتی ہے یعنی انٹلکچول اروگنس (Intellectual Arrogance)۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی گفتگو ہوتی ہے تو آپ شعوری یا غیرشعوری طور پر اپنی انفرادیت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا نقصان آپ کو یہ ملتا ہے کہ آپ دوسرے کے نقطۂ نظر کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتے اور نہ اس کو اپنے ذہن کا جز بناپاتے۔ مزید یہ کہ اس کوشش میں آپ کی باتیں بچاس فیصد متعلق (Relevent)ہوجاتی ہیں اور پچاس فیصد غیر متعلق (Irrelevent)۔
پھر میں نے کہا کہ اپنے بارے میں میرا احساس یہ ہے کہ میرے اندر سارے ہی مائنس پائنٹ ہیں۔ اگر کوئی میرا پلس پائنٹ ہے تو وہ صرف ایک ہے اور وہ دعا ہے۔ میرا حال یہ ہے کہ میں ہمیشہ ذکروں میں مشغول رہتا ہوں۔ اس کے سوا کوئی اور صفت میرے اندرنہیں۔