Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29اگست1997
ایک صاحب ملاقات کے لیے آئے۔ ان کا دبئی میں بہت بڑابزنس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں بزنس پر ایک خصوصی سمینار تھا۔ جس میں شرکت کے لیے وہ وہاں گئے تھے۔ وہ کئی بار امریکہ جاچکے ہیں۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ جس طرح انڈیا میں تجارتی اداروں کے اندر آپسی لڑائی ہوتی رہتی ہے ٹھیک اسی طرح امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیوں میں بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ اکثر کمپنیاں دوسری جنریشن یا تیسری جنریشن تک پہنچ کر یا ٹوٹ جاتی ہیں یا تقسیم ہوجاتی ہیں۔
اس کا سبب قانون فطرت ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مال اور اقتدار ان دوچیزوں کے بارے میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ بہت دیر تک کسی ایک فرد یا گروہ کے پاس نہ رہے بلکہ مختلف انسانوں کے درمیان بدلتارہے۔ یہ قانون مال کے بارے میں قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: کی لایکون دولۃً بین الأ غنیاء منکم (الحشر4)اسی طرح فتح واقتدار کے بارے میں یہ قانون قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وتلک الایام نداولھا بن الناس (آل عمران140)
اس معاملہ میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی استثناء نہیں ہے۔ کچھ مسلم مفکرین یہ کہتے ہیں کہ زمین کا سیاسی اقتدار ابدی طور پر مسلمانوں کا حصہ ہے مگر یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کے حق میں کوئی بھی دلیل نہیں۔ مزید یہ کہ ایسا ہونا فطرت کے خلاف ہے اور جوچیز فطرت کے خلاف ہو وہ کبھی واقعہ نہیں بن سکتی۔