Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سبق ملا ہے یہ معارج مصطفیٰ سے مجھے کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
یہ ساری بحثیں زیادہ تر اس قسم کے مسائل پر مرتکز رہی ہیں کہ معراج روحانی تھی یا جسمانی یہ خواب تھا یا حقیقی سفر اسراء اور معراج ایک ہیں یا دو معراج کا تعلق صرف پیغمبر سے ہے یا عام انسانوں سے بھی وغیرہ مگر معراج کے سفر کی وہ اصل بات جو قرآن میں مذکور ہے اس پر میرے علم کے مطابق، کسی نے بھی دھیان نہیں دیا۔
قرآن میں اس سفر کا دکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاک ہے وہ جو لے تب ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے تاکہ ہم اس کو اپنی نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ (بنی اسرائیل1)
اس قرآنی بیان کے مطابق مسجد اقصیٰ کے اردگرد خدا کی برکتیں ہیں اور وہاں خدا کی مخصوص نشانیاں موجود ہیں اس کا تقاضا تھا کہ مسلمان وہاں جاکر ان برکتوں سے فیض یاب ہوں اور وہاں کی خدائی نشانیوں کو دیکھیں اس کی اس اہمیت کی بنا پر مسجد اقصی کویہ خصوصی اہمیت دی گئی کہ اس کی زیارت کے لیےشد رجال جائز ہے (واضح ہو کہ شدرجال صرف تین مسجدوں کے لیے جائز قرار دیا گیا ہے) مگر مسلمانوں میں مسجد اقصی کی زیافت کا رواج ہی نہیں پرا اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ ننیانوے99فیصد مسلمان بیت المقدس اور مسجد اقصی کے فرق کو نہیں جانتے اس کی ایک وجہ غالباً یہ ہے کہ انہوں نے اس علاقہ کو تصویر میں دیکھا براہ راست جاکر اس کا مشاہدہ نہیں کیا چونکہ بیت المقدس (قبۃ الصخرہ) اونچائی پر واقع ہے اور مسجد اقصی نشبیب میں ہے اس لیے تصویر میں قبلہ الصخرہ میں نمایاں دکھائی دیتا ہے اس تصویری مشاہدہ کی بناء پر لوگ قبۃ الصخرہ ہی کو مسجد اقصی سمجھنے لگے ہیں۔