Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
4مارچ1997
پونا میں کشتی کا عالمی مقابلہ ہورہا ہے۔ اس میں بہت سے ملکوں کے پہلوان آنے والے ہیں۔ اخبار میں مہاویر پہلوان کا انٹرویو تھا جو اس مقابلہ میں حصہ لےنے والے ہیں۔ انٹرویو رنے چھا کہ آپ کو پہلوان بننے کا شوق کس طرح ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں ہریانہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ ہمارے گاؤں میں کچھ پہلوان تھے جو اکھاڑہ چلاتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ یہ پہلوان لوک پریہ ہیں۔ سب لوگ ان کی عزت کرتے ہیں۔ مجھے بھی شوق ہوا کہ میں پہلوان بنوں اور لوگوں کے درمیان عزت حاصل کروں۔
یہی اکثر لوگوں کا خیال ہوتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ماحول میں ایک کام کرنے والے کی عزت ہوتی ہے۔ یہ دیکھ کر وہ بھی اس کام کو کرنے لگتے ہیں۔ 1947سے پہلے ہندوستان میں انگریز کو چیلنج کرنے والا ہیرو بن جاتاتھا۔ چنانچہ بہت سے لوگ اس میدان میں نکل پڑے۔ 1947کے بعد بھی یہی صورت حال جاری ہے۔ کچھ کام ایسے ہیں جن میں نیوز ویلو ہے۔ اس کو کرنے والا آدمی اخبار میں چھپتا ہے اور شہرت پاتا ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اس طرح کے کاموں میں سرگرم ہوگئے ہیں۔ ان میں سے کوئی دین کا نام لیتا ہے اور کوئی قوم کا۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ہر ایک اپنے کو باعزت بنانے کے لہیے دوڑرہا ہے۔