Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
18دسمبر1997
مولانا محمد عرفان میرٹھی سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ جنگ ایک ناگزیر برائی ہے یعنی وہ شدید ضرورت کے تحت مجبورانہ طور پر کی جاتی ہے اس کی بیس نوعیت لازم کرتی ہے کہ وہ وقتی ہو یا وہ لامحدود طور پر جاری نہ رہے یہی وجہ ہے کہ جنگ کا اعلان صرف ایک قائم شدہ حکومت کا کام ہے کیونکہ قائم شدہ حکومت کو حالات پر مکمل کنٹرول رہتا ہے۔ اس کو یہ موقع ہوتا ہے کہ جس طرح وہ جنگ چھیڑے اس طرح اس کے خاتمہ کا فیصلہ بھی کرسکے۔
اس بناء پر اسلامی نقطۂ نظر سے وہ تمام جنگیں حرام ہیں جو مختلف مسلم علاقوں میں عوام نے چھیڑرکھی ہیں مثلاً کشمیر میں الجزائر وغیرہ ان مقامات پر جو جنگیں ہورہی ہیں اس کو وہاں کی عوام نے جہاد کے نام پر شروع کیا ہے۔ ہر ملک میں درجنوں بلکہ سیکڑوں کی تعداد میں عسکری تنظیمیں بنی ہوئی ہیں جو اپنے اپنے ناموں کے تحت جنگ کررہی ہیں۔ مثلاً کشمیر میں اس جنگ ہر اب آٹھ سال گذرچکے ہیں مگر وہاں کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ جنگ کے خاتمہ کا اعلان کرسکے۔ جنگی خود رویوں کی طرح شروع میں ہیں اور وہ خودروپودوں کی طرح چار ہیں۔ یہی واقعہ (خاتمہ جنگ کا کسی کے قابو میں نہ ہونا) اس بات کا کوئی ثبوت ہے ےکہ وہ ایک نسل حرام ہے نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی کام۔