Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20ستمبر1997
اگست کے آخر اور ستمبر کے شروع میں میں سلطنت عمان میں تھا۔ وہاں عرب نوجوانوں کا ایک حلقہ ہے۔ یہ لوگ تعلیم کے لیے قاہرہ گئے۔ وہاں وہ اخوانی فکر سے متاثر ہوگئے۔ اب ان کو نظر آنے لگا کہ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ حکومت کے نظام پر قبضہ کیا جائے اور یہاں اسلامی خلافت قائم کی جائے ۔اس سلسلہ میں ان کی پکڑدھکڑ ہوئی۔ ان کے200آدمی جیل میں بند کردئے گئے۔ اب وہ جیلوں سے چھوٹ کر آگئے مگر ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کریں۔ میں نے کئی صحبتوں میں انہیں بتایا کہ آپ نے سیاسی تفسیر کو نشانہ سمجھ لیا اس لیے آپ کو عمل کا درازہ بند دکھائی دیتا ہے۔ لیکن سیاسی تفسیر اسلامی عمل کا نشانہ ہی نہیں۔ اسلامی عمل حصفیہ دعوتی عمل ہے۔ اسلامی تحریک کا مقصد اسلمۃ الانسان (Islamisation of warn)ہے نہ کہ اسلمۃ الدولۃ (Islamisation of State)ہے۔
یہ لوگ سنجیدہ اور مخلص تھے۔ چنانچہ میری بات ان کی سمجھ میں آگئی۔ آخری مجلس میں جب میں نے ان لوگوں کا تاثر پوچھا تو ان کے لیڈر (طاہر عبداللہ)نے کہا: انا کنا فی ضیق فأخر حتشا الی التعۃ (ہم لوگ تنگی میں تھے، آپ ہم کو تنگی سے نکال کر کشادگی میں لاے ہیں)
ہر مسلم ملک میں اس قسم کے ہزاروں نوجوان پاے جاتے ہیں جو اسلام کی سیاسی تفسیر سے متاثر ہوکر مذکورہ قسم کی نقلی میں پڑے ہوتے ہیں۔ ان کو تنگی سے نکال کر کشادگی میں لانے کی واحد صورت یہ ہے کہ الرسالہ مشن ان لوگوں تک پہنچایا جائے۔ یہ وقت کا انتہائی ضروری کام ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ الرسالہ مطبوعات کو عربی اور دوسری مسلم زبانوں میں ترجمہ کرکے شائع کیا جائے۔