Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
9اکتوبر1997
حضرت ابوبکر صدیق کے زمانہ میں تدوین قرآن کا جو کام ہوا اس کو عام طور پر جمع قرآن کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے۔ اس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ خلیفۂ اول سے پہلے قرآن جمع نہ تھا۔ آپ نے اس کو جمع کرایا۔ مگر یہ درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ کی وفات سے پہلے ہی قرآن پوری طرح جمع ہوچکا تھا۔ البتہ جمع کا یہ واقعہ لوگوں کے حافظہ میں تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں ایسے اٹھے تھے جو مکمل قرآن کے حافظ تھے۔
اسی کے ساتھ اس زمانہ میں استعمال ہونے والے کاغذات یہ بھی قرآن کے تمام حصے کتابت شدہ حالت میں موجود تھے۔ خلیفۂ اول نے جو کچھ کیاوہ صرف یہ تھا کہ انہوں نے لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ قرآن کو اپنی متفرق قرآنی صفحات کے مطابقت (Tally)کرکے لکھوایا۔ جب ثابت ہوگیا کہ جو لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ قرآن عین وہی ہے جس کا ریکارڈ متفرق کاغذات میں تحریری طور پر موجود ہے تو انہوں نے واحد جلد کی صورت میں قرآن کا ایک نسخہ لکھوایا اور اس کو ریکارڈ کے طور پر المومنین حضرت حصص کے پاس رکھوادیا۔(تفصیل ’’تفصیل کے لیے‘‘ فتح الباری جلد آٹھ ، ص659تا663)۔