Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
10دسمبر1997
ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ خدا اپنے بندے سے قریب ہے اور بندے کی پکار کا جواب دیتا ہے (البقرہ186)اس طرح قرآن میں آیا ہے کہ خدا مضطر کی پکار کو جواب دیتا ہے جبکہ وہ اس کو پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کردیتا ہے۔(النحل62)انہوں نے کہا کہ کمپیوٹر پر جب ہم انگلی مارتے ہیں اور اس سے ایک سوال کا جواب پوچھتے ہیں تو وہ فوری طور پر اور لازمی طور پر ہمیں اس کا جواب دیدیتا ہے۔ مذکورہ آیتوں کے مطابق یہی معاملہ بندے اور خدا کے درمیان ہونا چاہیے مگر ایسا کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی تو بندے کی دعا قبول ہوجاتی ہے اور کبھی نہیں۔
میں نے کہا کہ دعاء سادا طور پر مانگنے اور پانے کے معاملہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک عبادت ہے اگر دعاء کا معاملہ کمپیوٹر جیسا ہوجائے تو اس کی اصل اسپرٹ ختم ہوجائیگی کمپیوٹر آپریٹر اور کمپیوٹر کے درمیان عجز و تفرع کی روح نہیں ہوتی جبکہ قآن کے مطابق، دعاء میں نضرع اور خوف کا روح ہونی چاہیے (الفاشیہ6)کسی انسان کے اندر سے ایسی دعاء اسی وقت ابھر سکتی ہے جبکہ وہ امید اور خوف کی دو طرفہ کیفیات میں مبتلا ہو حصول کا یقین اس کیبنٹ کو ختم کردیتا ہے اس لیے دعاء کی قبولیت کو بظاہر مبرعلی رکھا گیا نہ کہ کمپیوٹر کی مانند حتمی۔