Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5اپریل1997
خیر الامور اوسطھا (سب سے بہتر طریقہ بیچ والا ٹریڈ ہے) یہ کلمہ عام طور قول رسول کی حیثیت مشہور ہے۔ آج اس کو حدیث کی مختلف کتابوں میں تلاش کیا لیکن وہ نہ مل سکا بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی عربی مقولہ ہے جو حد زبان کی ماثلت کی بناپر حدیث رسول کی حیثیت سے مشہورہوگیا۔
تاہم اپنے زمانہ کے اعتبار سے وہ نہایت درست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملات میں نقطہ طریقہ وہ ہے جو اعتدال کا طریقہ ہو۔ جو افراد اور تفریط دونوں انتہاؤں سے پاک ہو۔ جو آدمی ایسا طریقہ اختیار کرے وہ عنبر ضروری ٹکراؤ سے بچ جائے گا۔ وہ اس سے محفوظ رہے گا کہ یہ عنبر حقیقت پسندانہ کام کرے اور گھبرائے تو اس میں پھنسا دے جس سے وہ یقینی طور پر ہو سکتا ہےاس مقولہ میں اعتدال پسندی کی تعلیم ہے اور اس دنیا میں اعتدال پسندی کا طریقہ ہی فطرت کا طریقہ ہے۔