Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25اکتوبر1997
ایک ہے دنیاوی اور دوسری چیز ہے مزاج۔ جہاں تک دینداری کا تعلق ہے ہر آدمی دیندارہوسکتا ہے۔ مگر مزاج انتہائی انفرادی چیز ہے۔ ہر آدمی کا مزاج پیدائشی طور پر الگ الگ رہتا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا مزاج ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ اسی طرح حضرت عثمان اور حضرت علی کا مزاج ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ مزاج کا یہ فرق ہر حال میں باقی رہتا ہے خواہ آدمی کتنا ہی متقی اور پرہیز گار ہوجائے۔
مزاج کے اس فرق کا ظہور انفرادی زندگی میں نہیں ہوتا بلکہ اجتماعی زندگی میں ہوتا ہے جب بھی دو یا زیادہ آدمی مل کر کام کرلیں تو مزاج کا یہ فرق ہمیشہ اختلاف پیدا کرے گا۔ مزاج کے اس فرق کے باوجود اتحاد صرف اس وقت ہوسکتا ہے جب کہ کوئی برتر مفاد اس کو کنٹرول میں رکھے ہوئے ہو۔ اہل اسلام کے لیے یہ مفاد آخرت کا مفاد ہوتا ہے۔ آخرت کے مفاد کا احساس جتنا زیادہ گہرا ہوگا اتنا ہی زیادہ آدمی اپنے مزاجی اختلاف کو قابو میں رکھے گا۔ اور جہاں آخرت کا احساس کمزور ہوجائے وہاں مزاجی اختلاف میں بالاتر ہوجاے گا۔ ملی کاموں میں انتشارکا سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔