Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
24اگست1997
بعض مسلم خطے ایسے ہیں جہاں خصوصی طور پر سیاحوں کی آمد جاری رہتی ہے۔ مگر نام نہاد اسلام پسندوں نے ان خطوں میں اسلامی سیاست یا نام پر تشدد کا ہنگامہ برپا کررکھا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہاں سیاحوں کا آنا بہت کم ہوگیا ہے۔ یہ سیاح گویا مدعو تھے جو خود داعی کے دروازہ پر پہنچ رہے تھے۔ مگر دعوتی شعور نہ ہونے کی وجہ سے یہ امکان تباہ ہوکر رہ گیا۔
یہ فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ ان علاقوں میں جاری ہونے والی متشددانہ تحریکوں کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے کیونکہ ان تحریکوں کا یہ الٹا اثر ہوا ہے کہ وہاں سیاحوں کی آمد تقریباً ختم ہوگئی ہے اور نتیجہ اسلام نے مصنوعی طور پر اپنے آپ کو ثواب کے اس عظیم موقعہ سے محروم کردیا ہے۔ ان علاقوں کے اہل اسلام پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ سیاحوں کو مدعو کی روپ میں دیکھیں، وہ سیاحوں کو اپنے پاس آیا ہوا خدا کا ایک نرسنا وہ سمجھیں، وہ محسوس کریں کہ ان کے پاس خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی ایک انسانی امانت ہے اور یہ سیاح ان کے پاس اپنا یہ خدائی حق لینے کے لیے آتے ہیں۔
جدید سیاحت ایک عظیم دعوتی امسکان ہے۔ اس دعوتی امکان کو استعمال کرنا اپنے آپ کو خداکی رحمت کا مستحق بنانا ہے اور اس میں رکاوٹیں ڈالنا خدا کے غضب کو دعوت دینا ہے۔