Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3اکتوبر1997
قرآن میں اہل ایمان کی زبان سے ایک بات آئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے: واحدا للمتقین اماما (الفرقان84)یعنی ہم کو غیر متقیوں کا امام نہ بنا بلکہ ہم کو متقیوں کا امام بنا۔
اس دعا کا تعلق صرف اپنے گھر سے نہیں ہے بلکہ وسیع تر معنوں میں پورے سماج اور پوری قوم سے ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امامت و قیادت کی تین قسمیں ہیں۔ منکروں کی امامت، منافقوں کی امامت، متقیوں کی امامت، کوئی امام یا قائد جوازار اختیار کرتا ہے اس قسم کے لوگ اس کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ کوئی شخص اگر ملحن باتیں کرے تو اس کے گرد منکر اور ملمہ جیسے لوگ اٹھ ہوں گے۔ اس طرح جو آدمی ہر ایک کو خوش کرنے والی باتیں کرے۔ وہ اصول کی اعانت کرنے کے بجائے عوامی ذوق کی اعانت کرتا ۔ یہ منافقانہ قیادت ہے۔ ایسے قائد کے گرد سب سے زیادہ بھیڑ اکٹھا ہوجاتی ہے۔
تیسری قسم اس قائد کی ہے جو اصول پسند ہو جو دوسروں کے چشم آبرو کو دیکھ کر یہ بولے بلکہ وہ بات کہے جو حقیقت والی کے ہو۔ ایسی میں اس کے گرد ہمیشہ وہ لوگ اکٹھا ہوتے ہیں جو سنجیدہ ہوں اور جوامتالی پیروی کرنے کے بجائے اصول کی پیروی کرنے والے ہوں۔