Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29جولائی1997
ایک عربی مدرسہ کے تین فارغ طلبہ ملاقات کے لیے آئے ۔ گفتگو کے آخر میں ان کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے انہیں یہ آیت سنائی: واتقوا اللہ ویعلمکم اللہ (البقرہ282)یعنی اللہ سے ڈرو اور اللہ تم کو علم سکھائے گا۔ میں نے کہا کہ خدا کے ڈر اور علم میں کیا تعلق ہے۔ اس پر غور کیجئے تو ایک بے حد اہم بات معلوم ہوتی ہے۔
خدا سے آدمی اس وقت ڈرتا ہے جب کہ وہ اس کو سب سے بڑا بناتا ہے۔ اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوا کہ تم خدا کو اپنا بڑا بناؤ، اور پھر تم علم والے بن جاؤگے۔
غورکیجئے تو مفروضہ اکابرین کسی شخص کے لیے علم کی ترقیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ آدمی فرضی طور پر کچھ شخصیتوں کو اکابر کا درجہ دے دیتا ہے۔ اس کے بعد جب کوئی دوسرا شخص علم و معرفت کی کوئی ایسی بات کہتا ہے جو مفروضہ اکابر نے نہ کہی ہو تو اکابر پرست آدمی ایسے شخص کی بات کو اہمیت نہیں دے پایا اس لیے وہ اس کو قبول بھی نہیں کرپاتا۔ لیکن جو آدمی صرف خدا کو اپنا بڑا بنائے اس کے ذہن میں اکابر اور اصاغر کا فرق مٹ جائے گا اس کو خداکے مقابلہ میں سارے انسان یکساں دکھائی دیں گے۔ اس لیے وہ علم وحکمت کی ہر بات کو لینے کے لیے تیار رہے گا۔ اس طرح تقویٰ آدمی کے اندر قبولیت کی استعداد کو بڑھاتا ہے۔ اپنے علم میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے اپنے ذہنی ارتقا کے سفر کو برابر جاری رکھتا ہے۔