Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
19اپریل1997
ایک فلسطین نوجوان جہاد محمد(Tel: 6846964)ملاقات کے لیے آئے۔ سات سال کی عمر میں وہ اردن چلے گئے تھے اور اب اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ ہندوستان آتے ہیں۔ فلسطین کے مسئلہ کے بارے میں وہ پرجوش مجاہدانہ باتیں کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے کہا کہ شیخ محمد الغزالی (وفات1996) کا کہنا تھا کہ میں ہرگز قدس نہیں جاؤں گا الہ یہ کہ فاتح کی حیثیت سے جاؤں (لن آزور القدس الافاتحہ)
یہ بات یقینی طور پر سنت رسول کے خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے تیرھویں سال مکہ چھوڑکر مدینہ جانا پڑا۔ اس وقت آپ نےیہ نہیں فرمایا کہ لن اعود مکۃ الا فاتحاً۔ اس کے برعکس حدیبیہ کے موقع پر آپ نے غیر فاتح ہوتے ہوئے مکہ میں داخل ہونا چاہا۔ اس وقت سرداران مکہ نے داخلہ کی اجازت نہ دی تو حسب معاہدہ آپ اگلے سال مکہ میں گئے اور عمرہ کیا جب کہ شیخ الغزالی کا وہاں شہر میں مکمل قائم تھا۔ مذکورہ قول مجھے کوئی اسلامی قول دکھائی نہیں دیتا۔ زیادہ صحیح اسلامی بات یہ تھی کہ وہ کہتے کہ: لن آزور القدس ایہ داعیاً ( میں ضرور داعی کی حیثیت سے قدس جاؤں گا) لیکن پچھلے پچاس سال کے دوران کوئی بھی قابل ذکر عالم یا غیر عالم یہ جملہ نہ کہہ سکا۔