Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
16اگست1997
اس سال15اگست کو ہندوستان میں آزادی کی گولڈن جبلی منائی گئی۔ ایک پروگرام یہ تھا کہ 14اگست اور15اگست کی درمیانی رات کو مہاتما گاندھی ، جواہر لال نہرو اور نیتاجی سبھاش چندربوس کی ریکارڈ کی ہوئی تقریریں ریڈیو پر سنائی گئیں۔ جواہرلال نہرو کی تقریر انگریزی میں تھی اور گاندھی اس سبھاش چندربوس کی ہندی میں۔
سبھاش چندربوس نے آزادی سے پہلے تقریر کرتے ہوئے پرجوش طور پر یہ کہا تھا کہ غلامی سب کشٹوں اور پاپوں کی جڑ ہے۔ آزادی سے پہلے تمام لیڈر اس قسم کی بولی بولتے تھے۔مگر15اگست1947کو جب آزادی ملی تو اس کے بعد معلوم ہوا کہ یہ سب ایک رومانی تخیل تھا۔ چنانچہ مہاتما گاندھی نے آزادی کے بعد ہندوستان میں جو حالات دیکھے اس پر انہوں نے بڑے دکھ کے ساتھ کہا تھا کہ کیا ہم نے ایک انگارہ سے دوسرے انگارہ میں کودنے کے لیے ایسا کیا تھا۔
اصل یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں نے غلط طور پر یہ سمجھا تھا کہ انگریزوں کا سیاسی راج ختم کرنا ملک میں بہتر سماج بنانا ہے مگر دونوں میں کوئی رشتہ نہ تھا۔ بہتر سماج بنانے کے لیے باشعور اور باکردار انسان درکار تھے اور یہ کام ہمارے لیڈروں نے کیا ہی نہیں۔