Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15جنوری1997
ایک صاحب نے ڈائری (حصہ اول) کا مطالعہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ آپ کی ڈائری مجھے بہت پسند آئی۔ مگر اس میں کچھ باتیں ایسی ہیں جنہیں آپ کو لکھنا نہیں چاہیے۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معرفت کے جو ذاتی تجربات آپ نے لکھے ہیں وہ تواضع کے خلاف ہیں۔ اس کے لکھنے سے آپ کو احتراز کرنا چاہیے۔
میں نے سوچا کہ اس قسم کے تجربات جو تقریباً روزانہ مجھ پر گزرتے ہیں ان کا تو میں نے بمشکل ایک فی صد حصہ بیان کیا ہے۔ 99فیصد کاکوئی ذکر نہیں کیا۔ اس کے باوجود کہنے والے نے کیوں ایسا کہا۔
پھر میں نے سوچا کہ صوفی لوگ تو اس طرح کی باتیں مزید اضافہ کے ساتھ کہتے ہیں مگر ان پر کوئی ایسا تبصرہ نہیں کرتا۔ پھر اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کا وجہ غالباً یہ ہے کہ صدیوں کی روایات کے نتیجہ میں لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ معرفت کے تجربات صرف ان لوگوں کو پیش آتے ہیں جو دنیا سے کٹ کر خانقاہوں میں یا جنگلوں میں زندگی گزارتے ہوں اور مخصوص قسم کی پرمشقت ریاضتیں کرتے ہوں۔ وہ جب دیکھتے ہیں کہ میں ایک عام انسان کی طرح سادہ زندگی گزاررہاہوں تو ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے شخص کو معرفت کے تجربات کیسے ہوسکتے ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ معرفت کا تجربہ انہیں لوگوں پرگزرتا ہے جو ترک دنیا کی قیمت دینے کے لیے تیار ہوں۔ مگر صوفیوں اور راہیوں کا ترک دنیا کا طریقہ غیر مسنون طریقہ ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے آدمی دنیا سے بے رغبت ہوجائے۔ میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میرا معاملہ خدا کے فضل سے یہی ہے۔ میں بظاہر عین دنیا کے اندر زندگی گزاررہا ہوں مگر نفسیاتی اعتبار سے میں کامل طور پر اس سے با رغبت رہتا ہوں۔ معرفت کے حصول کے لیے اصل اہمیت نفسیاتی بے رغبتی کی ہے نہ کہ ظاہری بے رغبتی کی۔