Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
2جولائی1997
ہندوستان کے وزیراعظم اندرکمار گجرال یکم جولائی1997کو کلکتہ گئے۔ وہاں ان کی پریس کانفرنس تھے۔ اس میں پریس رپوٹروں نے مسٹر جوگندر کے مسئلہ پر وزاعظم پر سوالات کی بوچھار کردی۔ جوگندر سنگھ سی بی آئی کے ڈائرکٹر تھے۔ انہوں نے سیاسی لیڈروں کو ایکسپوز کرنا شروع کردیا تھا جنہوں نے کروڑوں اور عربوں روپے لوٹ کر حاصل کرلیے تھے۔ پولیٹکل لیڈروں کے حلقے میں اس پر زبردست کھلبلی تھی۔ آخر کار وزیراعظم نے ان کو سی بی آئی کے عہدہ سے ہٹاکردوسرے شعبہ میں منتقل کردیا۔
سوالات کے درمیان اندرکمار گجرال غصہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ میں پترکاروں کی عدالت میں کھڑا ہوا نہیںہوں گا۔ اس کے بعد وہ مزید جواب دئے بغیر پریس کانفرنس سے اٹھ گئے۔
میں نے سوچا کہ یہ صرف اندرکمار گجرال کی بات نہیں ہے بلکہ وہ ہر آدمی کی بات ہے۔ ہر آدمی اپنے سے کمزور کے مقابلہ میں یہی جواب دیتا ہے۔ ہر آدمی بے انصافی کررہا ہے۔ اور جب اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اصول اور منطق کی زبان میں وہ اپنے موقف کو صحیح ثابت نہیں کرسکتا۔ وہ وہ متکبرانہ انداز میں یہ کہہ دیتا ہے کہ میں تمہاری عدالت میں کھڑا ہوا نہیں ہوں۔ دنیا میں انسان اس طرح کا رویہ اختیارکرکے بھی کامیاب ہے۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے جب کہ وہ خدا کی عدالت میں کھڑا ہوگا۔ وہاں کوئی شخص یہ کہہ کر نہ بچ سکے گا کہ میں خدا کی عدالت میں کھڑا ہوا نہیں ہوں۔