Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22مارچ1997
دکتور ابراحیم ابومحمد (ابوظہی) نے مولانا انیس لقمان ندوی کے ذریعہ اپنی دوکتابیں بھیجیں۔ ان کتابوں کا نام ہے: دعوۃ ولی التھکیر دعوۃ الی وسنائل۔
مصنف سے آسٹریلیا کی ایک خاتون کے ساتھ اپنی ایک گفتگو نقل کی ہے۔ اس نے کہا تھا کہ اسلام سر تنکیہ نہیں ہے۔ الاسلام لیس فیہ تفکیہ (صفحہ5)
مذکورہ خاتون نے یہ بات کیوں کہی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے خیال کے مطابق اسلام میں آزادانہ غوروفکر نہیں ہے۔ اور جب تک غوروفکر کی کامل آزادی نہ ہوتفکیر کا عمل عابدی نہیں ہوسکتا۔
میرے تجربے کے مطابق مذکورہ خاتون کی یہ بات بے بنیاد ہے۔ میں ذاتی طور پر لفظ کے انتہائی مفہوم کے اعتبار سے ایک ایسمل آدمی ہوں۔ میں اپنے مزاج کے مطابق ہر معاملے میں خالص عقلی فیصلے کرتا ہوں مگر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کبھی قرآن وحدیث کو عقل انسانی کے خلاف نہیں پایا۔ قرآن میں خود تدبر کا حکم دیا گیا ہے اور یہ عین وہی چیز ہے جس کو تفکیر کہا جاتا ہے۔