Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30دسمبر2006
اسمِ اعظم کے متعلق ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے ۔ مسند احمد کی دو روایتں اِ س طرح ہیں :
١_ عن أنس بن مالك أن النبي صلى اللّه عليه وسلم سمع رجلاً يقول :" اللهم إنى أسئلك أن لك الحمد لا إلـٰه إلا أنتَ وحدك لا شريك لك المنان بديع السمـٰوٰت والأرض ذا الجلال والإكرام . فقال النبي صلى اللّه عليه وسلم : لقد سألت اللّه بإسم اللّه الأعظم الذي إذا دُعى به أجاب وإذا سئل به أعطىٰ . ( جلد ٣ ، صفحه ١٢٠ ) ٢_ سمع النبي صلى اللّه عليه وسلم رجلاً يقول :" اللهم إني أسئلك بأني أشهد أنك أنت اللّه الذي لا إلـٰه إلا أنت الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفواً أحد . فقال : قد سألت اللّه بإسم اللّه الأعظم الذي إذا سئل به أعطىٰ وإذا دُعى به أجاب . ( جلد ٥ ، صفحه ٣٥٠ )
دونوں روایتوں میں اللہ کے ساتھ اور کئی صفاتی نام آئے ہیں ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسمِ اعظم سے مراد کوئی ایک نام نہیں ہو سکتا۔ اگر اسمِ اعظم ایک نام ہوتا تو صحابی کی مذکورہ دعا میں بھی صرف ایک نام ہوتا ۔ جب کہ اِس دعا میں واضح طور پر کئی نام ہیں ۔ اِس واضح اشارے کے با وجود تعجب ہے کہ لوگ اسمِ اعظم کو خدا کا کوئی ایک نام سمجھتے رہے اور اُس ایک نام کی تلاش میں لگے رہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسمِ اعظم سے مراد خدا کا کوئی ایک نام نہیں ہے ، بلکہ وہ خصوصی اسلوب میں خدا کو پکارنے کا نام ہے ۔ اسمِ اعظم سے مراد ، اسمِ اعظم نہیںہے بلکہ جذبہ اعظم ہے ۔ مذکورہ دعائیں صحابی نے کسی رٹے ہوئے دعائیہ لفظ کو استعمال نہیں کیا بلکہ جذبات کے وجود میں اس کی زبان سے کچھ خاص الفاظ نکل گئے ۔ اِ س کا نام اسم اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنا ہے ۔ اسمِ اعظم کوئی خاص نام نہیں ۔ بلکہ وہ خا ص اسلوب ہے ۔ اسی کو ربّانی اسلوب کا نام اسمِ اعظم ہے ۔