Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25نومبر 2006
۲۵ نومبر ۲۰۰۶ کو انڈیا انٹرنیشنل (نئی دہلی ) میں ایک سیمنار تھا ۔ اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شیرک تھے ۔ اِس سیمنار کا عنوا یہ تھا :
Religious Significance of Faith.
اِس سیمنار میں اگر چہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک تھے ، لیکن کسی نے کوئی واضح بات نہیں کی ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر ایک کنفیوژن میں مبتلا ہے ۔ مثلا ایک عسائی نمائند ے نے کہا کہ حضرت مسیح خود لائٹ تھے۔ پھر اسی تقریری میں انھوں نے بھی یہی کہا کہ حضرت مسیح ڈوائن لائٹ کا ریفلیکشن تھے ۔ میرے سوا ہر ایک کی تقریر غیر واضح تھی۔ میں نےاللّه نور السماوات والارض ( النور : ٣٥ )کی قرآنی آیت کی روشنی میں بیس منٹ کی تقریر کی ۔ مقررین کا کنفیوژن اتنا واضح تھا کہ سیمنار کے چیر مین ڈاکٹر ظفر محمود نے با لواسطہ اندا ز میں اس کا اعتراف کیا۔ چناں چہ انھوں نے آخر میں بہرائج (یوپی) کے ایک نابینا شاعر کشفی کا ایک شعر پڑھا :
ہمارا ذکر ہی کیا ہم تو نا بینا ہیں اے کشفی ! نظر والوں میں بھی ہم نے بصیرت کی کمی پائی