Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
7دسمبر 2006
کشمیر کے ایک صاحب ملاقات کے لیے آئے ۔ وہ گورنمنٹ آف انڈیا کے ایک شعبے میں افسر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اکتوبر ۱۹۸۹میں جب کشمیر میں مسلح جہاد شروع ہوا تو اس کے بعد یہاں کا سفر بہت کم ہو گیا۔ ہوائی پرواز یں سب منسوخ ہو گئیں۔ آج کل سری نگر میں سارے دن ہوائی پرواز یں آتی اور جاتی ہیں ۔ ہوائی اڈے پر اتنی زیادہ بھیڑ ہوتی ہے کہ جیسے کہ یہ کوئی بس اسٹیشن ہو۔ میں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ کشمیر ی لوگ مسلح جہاد کے نقصانات کو دیکھ کر بدل چکے ہیں ۔ اب وہ اس کو چھوڑ کر پیسہ کمانے کی دوڑمیں لگے ہوئے ہیں ۔ میں نے کہا کہ اِ س طرح کشمیر کے لوگ اپنے مادّی فائدے کو تو حاصل کر لیں گے ۔ لیکن خدا کے یہاں وہ سخت مجرم قرار پائیں گے ۔ میںنے کہا کہ کشمیر یوں کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ کھلے طور پر اعلان کرتے کہ ہمارا مسلح جہاد غلط تھا ۔ اب ہم اس کو چھوڑتے ہیں ، لیکن انھوں نے اپنی غلطی کا اعلان کیے بغیر یو ٹرن (U-Turn)لے لیا ۔ یہ منافقت ہے ۔ اور منافقت اللہ تعالیٰ کے یہاں ایک جرم ہے ، وہ کوئی پسندیدہ فعل نہیں۔