Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
1ستمبر2006
حدیث میں آیا ہے کہ :أفطر الحاجم والمحجوم ( مشكوٰة المصابيح ، رقم الحديث ٢٠١٢ )اِ س حدیث پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حجامت (مچھننا لگوانے)سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ اِس پر بحث کرتے ہوئے ابن حجر نے لکھاہے :
جاء بعضهم بأعجوبة فزعم أنه صلى اللّه عليه وسلم إنما قال " افطر الحاجم و المحجوم " لأنهما كانا يغتابان ، قال فإذا قيل له فالغيبة تفطر الصائم ، قال لا . قال فصلىٰ هـٰذا لا يخرج عن مخالفة الحديث بلا شبهه ( فتح البارى ، كتاب الصوم ، جلد ٤ ، صفحه ٢١٠ )
یہ قول غالباً کسی تابعی کا ہے ۔ اگر چہ ابن حجر اس کو رد کیا ہے ۔ لیکن میرے نزدیک وہ بالکل درست ہے ۔ اصل واقعہ یہی ہے کہ رسول اللہ کی مراد غیبت سے تھی ۔ چوں کہ مذکورہ دونوں صاحبان دوران حجامت غیبت کر رہے تھے ۔ اس سے آپ نے حاجم اور حجوم کا لفظ استعمال کیا۔ ابنِ حجر کو اشکال اس لیے ہوا کہ انھون نے اِ س قول کو فقہ اور قانون کی زبان میں لے لیا۔ حالاں کہ دوسری بہت سی آیتوں اور حدیثوں کی طرح یہ فقہ اور قانون کی زبان میں نہیں ہے بلکہ ہیمر نگ (Hammring)کی زبا ن میں ہے ۔ اِس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں صاحبان کا روزہ اگر چہ خالص قانون کے نقطہ نظر سے روزہ مانا جائے گا ۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ روزہ نہ ہوگا۔ کیوں کہ ان کے روزے میں روزے کی اصل اسپرٹ (تقویٰ ) موجود نہیں۔