Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
21دسمبر 2006
ہمارے سماج میں ایک تجربہ عام ہے ۔ تقریباً ہر آدمی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں اس کو محسوس ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ اس کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ یہ تجربہ اتنا عام ہے کہ شاید کوئی بھی شخص نہیں جس کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آیا ہو۔
ایسے تجربے کے وقت عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر غصہ اور جھنجھلاہٹ کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں ، وہ منفی نفسیات کا شکار ہو جاتا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی منفی تجربہ ہمیشہ بہت اعلیٰ مثبت موقع لے کر آتا ہے ۔ ایسے موقع پر آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے تجربے کو خدا کی طرف موڑ دے ۔ وہ اپنے تجربے کو دعا کی شکل میں ڈھال دے ۔ وہ خدا کی طرف رجوع کرتے ہوئے کہے کہ -خدا یا ، انسان نے مجھ کو نظر انداز کیا ہے تو مجھ کو نظر انداز نہ فرما۔ تو اپنی خصوصی رحمت سے میرے لیے اس کی تلافی کا انتظام فرما۔ انسان نے مجھ کو نہیں دیا، اب تو مزید اضافے کے ساتھ مجھ کو اپنی رحمتوں میں حصے دار بنا دے ۔ تو میرے اوپر اپنی خصوصی نصرت نازل فرما -اگر آدمی ایسا کر سکے تو وہ ایک منفی تجربے کو ایک مثبت واقعے میں ڈھا ل لے گا۔