Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
8دسمبر 2006
آج ہفتےو ار اجتماع (اسپریچول کلاس ) تھا ۔ آج کل مسلم اخباروں میں مدارس بورڈ کی بحث چل رہی ہے ۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ ایسے علماء پیدا کیے جائیں جو دور جدید کے ضرورت کو پورا کرنے والے ہوں ۔ میں نے کہا کہ یہ بات توڈیڑھ سو سال سے کہی جا رہی ہے ۔ اس سے بہت زیادہ کوششیں کی گئی ہیں ، لیکن ابھی تک ایک بھی عالم ایسا پیدا نہیں ہوا جو دور جدید میں اسلام کی ضرورت کو پورا کرنے والا ہوں ۔ اس لیے یہاں اصل مسئلہ کو شش کا نہیں ہے ۔ بلکہ کوشش کے باوجود نتیجہ نہ نکلنے کا ہے ۔ چوں کہ نتیجہ نہیں نکلنا ۔ اس لیے لوگ سمجھتے ہیں کہ کوشش بھی نہیں ہوئی ۔ میں نے کہا کہ ایسی بہت سی یو نیورسٹیاں انڈیا میں اور مسلم ملکوں میں بنائی گئی ہیں ، جہاں دونوں قسم کی تعلیم کا انتظام ہے ، لیکن مطلوب فائدہ حاصل نہیں ہوا ۔ اس طرح بہت سے لوگ ایسے تھے جنھوں نے ، پہلے مدرسے کی سند حاصل کی مدارس کے بعد یو نیورسٹی کی ڈگری لی، مگر وہ بھی دورِ جدید کے عالم نہ بن سکے۔
اِس سلسلے میں میںنے کئ باتیں کہیں جن میں سے ایک بات یہ تھی کہ تعلیمی نصاب کے ذریعے ایسے افراد کبھی پیدا نہیں ہو سکتے ۔ اس لیے کہ تعلیمی نصاب میں ہمیشہ کلاسکی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ۔ حبیب کہ دور ِ جدید کے عالم کے لیے تخلیقی مطالعہ ضرور ہے ۔ میں نے کہا کہ اسلام کی جدید ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مدرسی عالم کافی نہیں ہے، بلکہ عالم کی ضرور ت ہے ۔