Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14نومبر 2006
لاہور کے اردو زورنامہ نوائے وقت کے سنڈےمیگزین (۵نومبر ۲۰۰۶ء)میں ایک مضمون -قائداعظم کے دست راست : نواب زادہ لیاقت مال خان کے عنوان سےچھپا ہے ۔ اس مضمون کے لکھنے والے مسٹر خواجہ مختار ہیں ۔ اس مضمون کا ایک جز یہ ہے :
’’جن دنوں قائد اعظم مسلم لیگ کے تنظیمی دور ے کے سلسلے میں علی گڑھ تشریف لے گئے تو انھیں جس گھوڑا گاڑی میں بٹھا کر کی شکل میں لے جایا جا رہا تھا ، یونیورسٹی کےنوجوان طالب عملوں نے وفور عقیدت سے اس کے آگے جتھے ہوئے گھوڑے کھول دیے اور ان کی جگہ خود جُت گئے ۔ (صفحہ ۲۳)
مسٹر محمد علی جناح نے علی گڑھ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھاکہ -ہم انڈیا کے مسلمانوں کو قربان کے کےپاکستان بنوائیں گے ۔ اِس پر علی گڑھ کے مسلم طلبا نے تالیاںبجائی تھی ۔واضح ہو کہ علی گڑھ مجودہ پاکستان میں شامل ہونے والا نہیں تھا۔ اِ س کے باوجود یہاں اس کےلیے تالیاںبجائی جارہی تھیں ۔ ماضی میںمسلمانوں کی یہی جذباتی سیاست تھی جس کا نتیجہ اُنھیں موجودہ حالات کی شکل میںمل رہاہے ، لیکن مسلمانوں کی جذباتی فکرکا دوسرا اظہاریہ ہےکہ وہ اِن حالات کےلیے ہندوئوں کو ذمےدار ٹھہراتے ہیں۔