Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
یہ اصناف کے علماء کی بات ہے
تقریباً تمام علماء کا یہ مسلک رہا ہے کہ ایمان میں اضافہ نہیں ہوتا۔ البتہ ایمان میں کمی ہو سکتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان کو بمقابلہ اقرار یا بلمقابلہ تصدیق ایک عقیدے کی طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ اس کو معرفت کے حوالے سے نہیں سمجھتے ۔ مثلاً ایمان اگر خدا اور رسول اور فرشتہ اور کتاب ان چار چیزوں کا نام ہو تو ان چار چیزوں کے اقرار سے ایمان مکمل ہو جائے گا۔ اب اس میں اضافے کا کوئی امکان نہیں۔ البتہ کمی کا امکان ہے۔ کیوںکہ یہ ممکن ہے کہ آدمی چار میں سے تین کو مانے اور ایک کو نہ مانے تو اس کا ایمان ناقص ہو جائے گا۔
یہ ایک بھیانک غلطی ہے ۔ ایمان میں اضافہ یا کمی باعتبار معرفت ہوتی ہے ۔ نہ کہ باعتبار اقرار اور تصدیق جب بھی آدمی پر ذہول کی حالت طاری ہو تو اس کی معرفت میں کمی آجائے گی ۔ اور جب وہ تفکر اور تدبر اورتوستم کا تجربہ کر رہا ہو تو اس کے ایمان میںاضافہ ہو جائے گا ۔ یعنی معرفت ِ خداوندی میں اضافہ ۔
ایمان میں اضافے کی پہچان ذِکر اور دعا سے ہوتی ہے ۔ ہر بار جب خدا کی قربت اور معرفت میں اضافہ ہوتا ہے تو آدمی کی زبان پر نئے نئے الفاظ خدا کا ذکر جاری ہو جاتا ہے ۔ اور نئے نئے الفاظ میں اس کی زبان سے دعا کے کلمات نکلتے ہیں ۔ یہی اضافہ ایمان کی سب سے بڑی پہچان ہوتی ہے۔