Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30مارچ2006
فرنگی محل (چوک)لکھنؤ میں واقع ہے۔ یہ ایک بہت بڑے مکان کا نام تھا۔ جو جہاں گیر نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو دے دیا تھا ۔ جہاں گیر جس زمانے میں بیمار ہوا۔ کئی لوگوں نے اس کا علاج کیا لیکن کامیاب نہیں ہوئے ۔ ایک انگریز ڈاکٹر نے علاج کیا تو اس نے خوش ہو کر پوچھا کیا چاہتے ہو۔ اس نے کہا کہ میری قوم کے کچھ لوگ یہاں لکھنؤ میں تجارت کے لیے آئے ہیں۔ ان کو مشکل پیش آئی ہے ۔ تو آپ ان کو تجارت کی اجازت دے دیں اور ان کو کوئی Charterیا کوئی Guranteeاِشو کر دیں۔ جہاں گیر نے فرمان جاری کر دیا اور لکھنؤ میں ایک بہت بڑا محل یا کو ٹھی ان کو دے دی۔ انگریزوں کی وجہ سے وہ کوٹھی فرنگی محل کہلاتی تھی۔
اورنگ زیب کو جب یہ معلوم ہوا کہ انگریزوں نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جو جہاں گیر نے ان کےلیے طے کر دیا تھا ۔ اور بعض ایسے کام کیے جو حکومت کی پالیسیوں کے خلاف تھے ۔ تو اورنگ زیب نے وہ کوٹھی ان سے صبظ کر کے وہ کوٹھی ملا نطام الدین سہالوی کو دے دی۔ اور کہا کہ آپ یہاں درس گاہ قائم کردیں۔ چنانچہ درس گاہ کے علماي فرنگی محل کہلاتے تھے۔