Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
9جون 2006
مولانا محمد رابع ندوی کی ایک کتاب (مطبوعہ ، جنوری ۲۰۰۶)اس نام کے ساتھ چھپی ہے: اس مکالہـ’’مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ، عہد ساز شخصیت ، اس کیاب کا ایک اقتباس یہ ہے:
’’۱۹۹۳میں شکاگو (امریکا )میں مذاہب عالم کی سو سالہ کانفرنس کا انعقاد طے ہوا۔ وہا ں کے اس کے منتظمین میں ڈاکٹر احمد عبد الحئی نے جو پٹنہ کے بڑے سرجن ہیں، اور مولانا سے بہت قریبی رطب رکھتے ہیں ، اپنے بھائی ڈاکٹر حامد عبد الحئی کی طرف سے جو شکاگو میں مقیم ہیں، کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ مولانا کو بھیجا ، اور اس میں ان کی شرکت کو مفید بتایا۔ مولانا کو آکسفورڈ کا سفر کرنا ہی تھا، اور اپنی آنکھ کے علاج کے سلسلے میں امریکا میں جو قیام تھا ، اور اس میں لوگوں سے جو ربط و تعلق قائم ہوا تھا ، ان سے ملاقات اور کانفرنس میں اپنی بات کہنے کے خیال سے دعوت نامہ قبول کر لیا۔ لیکن آکسفورڈ کے پروگرام کے اختتام پر ہی جانے کا فیصلہ کیا ۔ جس سے مولانا دو وروز تاخیرسے سفر کرسکے اور کانفرنس کے اختتام سے ایک روز پہلے پہنچنا ہوا، خیال یہ تھاکہ آخری دن مولانا کا خطاب ہو جائے گا اور بات مولانا کی وہاں حاضری میں آجائے گی ۔ چنانچہ کانفرنس کے پروگرام میں مولانا تشریف لے گئے ۔ پروگرام کے شرو ع ہوتے ہیں تھوڑی دیر باقی تھی ۔ مجمع کا نفرنس کے میدا ن میں کچھا کھچ بھرا ہوا تھا اور ہر مذہب کے نمائندے بھی بعد دیگر بھی پہنچ رہے تھے ۔ وہاں بعض مذاہب کے نمائندوں نے اپنا بھجن اور منتر وغیرہ پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ مولانا کو انتظا ر کے لیے الگ ایک جگہ بٹھا یا گیا۔ مولانا کو میں اتنی شدید ظلمت محسوس ہوئی کہ وہاں ٹھرنا اور شریک ہونا پسند نہیں کیا، اور اصرار کیا کہ ہم واپس جائیں گے ۔۔ اس کے بعد مولانا د و ایک دفعہ شکاگو میں احباب سے مل کر اور ایک روز نیویارک میں وہاں کے احباب سے مل کر ہندوستان واپس آگئے ۔‘‘(صفحہ50)