Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20دسمبر 2006
مولانا صفی الرحمان مبارک پوری کا انتقال یکم دسمبر ۲۰۰۶ کو ان کے آبائی وطن حسین پور (اعظم گڑھ) میں ہو گیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر صرف ۶۴ تھی ۔ ان کی ولادت ۱۹۴۲میں ہوئی ۔ ان کی کتاب الرحیق الخنوم بہت مشہور ہوئی جو سیرت کے موضوع پر ہے ۔ اس کے علاوہ ان کی اور کئی کتابیں چھپی ہیں ۔ لاہور کے اردو ماہنامہ محدث (دسمبر ۲۰۰۶) میں حافظ صلاح الدین یوسف کا ایک مضمون مولانا صفی الرحمان مبارک پوری کے بارے میں چھپا ہے ۔ وہ بطور محقق ذمے داری سونپ دی گئی ۔جس میں ان کے ذمے سیرتِ نبویہ سے متعلقہ تاریخی اور حدیثی مواد کی تحقیق و تفصیح کا کام تھا۔ ۱۹۹۳میں راقم کی ان سے مکتبہ دار السلام (الریاض ) میں ملاقات ہوئی تو ان سے ان کے کام کی بابت پوچھا کہ وہ کس قسم کا کام ہے اور وہاں کام کی نوعیت کے اعتبار سے وہ مطئمن ہیں ، تو فرمایا کہ یہ ادارہ صرف علماء کو نوازنے کے لیے بنایا گیا ہے ، یوں گویا انھوںنے کام کی نوعیت کے اعتبار سے عدم اطمینان ظاہر فرمایا۔ اِس پر راقم نے عرض کیا کہ جب معاملہ ایسا ہے تو آپ جیسے با صلاحیت افرا کو ٹھوس علمی اور محیقی کام کرنا چاہیے ۔ لیکن غالباً مولانا کثیر العیانی کی وجہ سے اس ادار ے سے ہی وابستہ رہے ۔ (صفحہ ۷۲)
اکثر لوگ اپنے بچوں کو اقتصادی مشکلات سے بچانے کے لیے مذکورہ قسم کے غیر تخلیقی مناصب کو قبول کر لیتے ہیں۔میرے نزدیک یہ سخت غیر درست مندی کی بات ہے۔ بچوں کو مشکلات سے بچانا ان کے ساتھ ہمدردی نہیں ہے۔ بچوں کے ساتھ ہمدردی یہ ہے کے انھیں مشکلات سے مقابلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ انسان کی تربیت وتشکیل مشکل حالات میں ہوتی ہے۔ اور اکثر بات اپنے بچوں کی غیرفطری محبت میں اس طرح مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو زندگی کے اس تربیتی کورس سے محردم کر دیتے ہیں ۔