Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14جنوری 2006
میرا احساس یہ ہے کہ مادہ پرست اور روحانیت پسند دونوں نےایک مشترک غلطی کی ہے۔ وہ ہے اِسی دنیا میں جنت کے حصول کی کوشش ۔ مادہ پرست آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ پیسہ کما کر اپنے لیے مادّی سامان ِ راحت فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اسی دنیا میں جنتی نعمتوں سے محفوظ ہو سکے ۔ اِسی طرح روحانیت پسند آددمی یہ کرتا ہے کہ وہ جنت والی خوشی اور سکون کو اسی دنیا میں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اِس حالت کو وجد(Ecastacy)کہا جاتا ہے ۔ اسی حالت کو روحانی (Trance)بھی کہتے ہیں۔ یعنی صوفیانہ عقیدے کے مطابق ، وہ حالت جس میں روح جسم سے جُداہو کر عالم ملکوت کی سیر کرتی ہے، اور اس پر روحانی حقائق منکشف ہوتے ہیں۔
میرے نزدیک یہ دونوں ہی چیزیں یکساں طور پر گمراہی ہیں۔ ایک اگر سیکولر گمراہی ہے تو دوسری ، گمراہی۔ دونوں گروہ جنت میں ملنے والی چیز کو اسی دنیا میںحاصل کرنا چاہیے ۔ پرست طبقہ اس کو روحانی سُرورل کے نام سے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا ذمے داریوں کو اداکرنے کی جگہ ہے وہ راحت اور سرور حاصل کرنے کی جگہ نہیں۔