Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
26مارچ 2006
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میںنے کہا کہ براآدمی کی صورت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے ۔ کسی آدمی کی صورت کا انسانی تاریخ میں دوبارہ اعادہ نہیں ہوا۔ یہی معاملہ ذہنی صلاحیت کا ہے۔ ہر آدمی پیدائشی طور پر کوئی نادر ذہنی صفت لے کر پیدا ہوتاہے ۔ اگر آدمی اپنی اِص صفت کو دریافت کرلے تو وہ پوری انسانی تاریخ میںیکساانسان بن جاتا ہے۔ اگر چہ بیشتر لوگ اِس دریافت کےبغیر مرجاتے ہیں۔
اس معاملے کے دو پہلو ہیں۔ ایک ہے اپنی نادر صفت کی دریافت اور دوسری بات یہ کہ اس دریافت کے بعد آدمی متکبر نہ بنے ۔ وہ آخری حد تک تواضع(Modesty)پر قائم رہے۔ جو آدمی ان دونوںصفتوںکا حامل بن جائے وہ بلاشبہ تاریخ کا ایک یکتاانسان بن سکتا ہے ۔ ایسا انسان جس کامثنیٰ پوری انسانی نسل میں موجود نہیں۔
میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوںکہ میں نے خدا کی توفیق اپنے اندر یہ دونوں صفتیں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے یہ دریافت کیاہے کہ میرے اندر ایک نادرصفت موجود ہے ۔ جو میرے علم کے مطابق ، کسی دوسرے انسان کے اندر پائی نہیں گئی ۔وہ صفت ہےتجزیہ وتحصیل کی طاقت (Power of Analysis)میں اپنے علم کے اعتبار سے کہہ سکتا ہوںکہ غالباً کسی بھی دوسرے انسان