Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15جنوری 2006
قرآن کی سورہ نمبر 95میں چند شہروں کی قسم کھائی گئی ہے۔ ان میں سے ایک شہر مکہ ہے۔ جس کو سورہ میں البلدُ الأمين کہا گیا ہے ۔ قسم سے مراد گواہی ہے ۔ یعنی مکّہ گواہ ہے۔
مکّہ گواہ ہے سے مراد یہ ہے کہ مکّہ کی تاریخ گواہ ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ مکہ ایک عظیم تاریخ کی یاد گار ہے ۔ چار ہزار سال پہلےیہاں رتیلے صحرا اور بے آب و گیاہ پہاڑوں کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ اس وقت حضرت ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اوراپنے بیٹے اسماعیل کولے کریہاں آئے اوران کویہاں بسادیا۔ یہ کوئی معمول واقعہ نہ تھا۔ یہ دراصل انسانیت کی ایک نئی تاریخ بنانے کی طرف پہلا قدم تھا۔ اس عمل کے نتیجے میں یہاں ایک نئی نسل بنی ۔ جس کی فطرت محفوظ تھی اور اس بناپر اس کا ہر فرد غیر معمولی استعداد رکھتاتھا ۔یہی وہ بنو اسماعیل ہیں، جنھوں نے انسانیت کی تاریخ میںاُس دورکا آغاز کیا جب کہ انسان فطرت پرستی (Nature Worship)سے باہر آیا اور فطرت کو دریافت کرکے وہ دور پیداکیا جس کر سائنسی دور کہا جاتا ہے ۔ سائنسی دور کا سب سے بڑاپہلو یہ ہے کہ اس نے خدا کی معرفت کو اعلیٰ درج پر قابلِ فہم بنا دیا ۔