Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27جولائی 2006
ہمارے ماہ مانہ الرسالہ کے ایک قاری ، فضل محمد خاں (بلند شہر )تھے۔ انھوںنے ایک بار مجھ کو خط لکھا تھا کہ آپ ہم کو آخرت کی جہنم سے ڈراتےہیں ، کیا مسلمانوں کے پڑوس میں رہنا کسی جہنم سےکم ہے ۔
آج کل مجھے اس سے ملنا جُلتا تجربہ ہو رہا ہے ۔ میں ۱۹۸۳میں نظام الدین ویسٹ میںآیا۔ اس وقت اِس کالونی میں زیادہ تر ہندو رہتے تھے۔ صرف چند مسلمان تھے ۔ اس وقت یہ کالونی ایک پُر امن کالونی تھی ۔ ہر چیز میںنظم دکھائی دیتاتھا۔ پوری کالونی میں لوگ اس طرح رہتے تھے کہ وہ دوسروں کے لیے پرابلم نہ بنیں ۔ مگر اب صورت حال بالکل بدل گئی ہے ۔ انڈیا میں جب سے لبرل کالونی آئی ہے اور باہر کی کمپنیاں یہاں آگئ ہیں ۔ کمائی کے مواقع بہت بڑھ گئے ہیں ۔ چنانچہ مسلمام بھی بڑی بڑی کمائیاں کر رہے ہیں۔ اب مسلمانوں نے بڑی بڑی رقمیں ادا کرکےنظام الدین ویسٹ کے اکثر مقامات کو ہندوئوں سے خرید لیا ہے ۔ اب یہ کالونی عملاً مسلم کالونی بن گئی ہے ۔
اب کالونی کا ماحول بالکل بدل گیا ہے ۔ ہر وقت مسلم نو جوان کار دوڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ مسلسل ہارن بجاتے ہیں۔تیز تیز کیسٹ چلاتےہیں ۔ ائیر پولسشن بہت بڑھ گیا ہے ۔ اب یہ کالونی شوراور دھوئیں کی کالونی بن گئی ہے ۔ بستی کے مسلمان کاریں خرید خرید کر ہیں اور ہمارے گھر کے سامنے سڑک کے دونوں طرف اپنی کاریں کھڑی کیے رہےہیں ۔ اگر ان سےکہا جائے کہ تم یہاں کیوں اپنی کار یں کھڑی کرتے ہو اور شور کرتے ہو تو وہ لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں گے ۔ اِس بار دیوالی کے موقع پر مسلم نو جوان میرے گھر کے سامنے گھنٹوں تیز تیز پٹاخے چھوڑتے رہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ یہ تو ہندوئوں کا تہوار ہے تم کیوں پٹاخے چھوڑتے ہو۔ انھوںنے کہا کہ مزاآتا ہے ۔ اِس صورت حال سے میں اتنا زیادہ پریشان ہوں کہ کل میری زبان سےنکلا کہ- جو کالونی پہلے جنت کا تعارف بنی ہوئی تھی ، اب وہ جہنم کا تعارف بن گئی ہے ۔