Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23جنوری 2006
پیغمبر اسلام کی وفات مدینہ میں 632عیسوی میں ہوئی ۔ اس وقت صحابہ میں کہرام مچ گیا۔ لوگ اس کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ پیغمبر اسلام کی وفات ہو چکی ہے ۔ لوگ سقیفہ بنی سعدہ میں اکھٹا تھے اور کسی کی سمجھ میں نہیںآتا تھا۔ اُس وقت حضرت ابو بکربوقت وفات مدینہ میں نہیں تھے ۔ بعد کو جب وہ آئے تو یہ منظر ان کے سامنے آیا۔ اس وقت انھوں نے ایک تاریخی تقریر کی انھوں نے اپنی اِس تقریر میں کہا:
من كان يعبد محمداً فإن محمداً قد مات . ومن كان يعبد اللّٰه فإنّ اللّٰه حىٌّ لا يموت(جو شخص محمد کی عبادت کرتاتھا تو محمد بلا شبہ مر گئے ، اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے وہ کبھی مرنے والا نہیں)
ایک ناداں آدمی اُس جملے کوتو رسول جملہ سمجھئے ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک زندہ انسان کی زبان سے نکلنے والا ایک تاریخی جملہ تھا اس نے اسلام کی تاریخ کو آگے بڑھا دیا ۔ یہ شخصیت پرستی کے بجائے خد ا پرستی کا پیغام تھا۔ شخصیت پرستی میں بہت جلد فل اسٹاپ آگیا ہے ۔ نتیجہ یہ ہو اکہ ذہنی ارتقا ء رج جائے ۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں اکابر پرستی آگئ۔ اس نے مسلمانوں کے اندر ذہنی ارتقاء کے عمل کو روک دیا۔