Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
13مئی2006
مسٹر منی بھائو چیک انڈیا کے بارے میں کہتے ہیں کہ :
Giant has woken I want poeple to realise that aping the west is not the way to happiness.
یعنی انڈیا جاگ اٹھا ہے ، وہ جنوب کے اصول پر مادی ترقی کی طرف دوڑ رہا ہے لیکن مغرب کی نقانی خوشی تک پہنچنے کا راستہ نہیں ۔
دوسری طرف مسٹر منی بھائو میک سے ان کے انٹرویور نے پوچھا کہ کیا ان کی ریسرچ کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیوی لذتوں کو چھوڈ دینا چاہتے ہیں انھوں نے کہا کہ ہر گز نہیں۔ میری عقل نے کہا تھا کہ وہ کام کرو جس میں تم کو خوشی ملے:
Does his research mean renunciation of wordly pleasures? Not at all. My mother always told me you can do anything that gives you pleasure.
منی بھائو چیک نے اتنا زیادہ پیسہ کمایا جس سے وہ لذت کی ہر چیز خرید سکتے تھے ، اور عملاً انھوں نے خریدا بھی ۔ لیکن انھیں تسکین نہ مل سکی۔ لیکن جب ان سے پوچھاگیا کہ کیا وہ دنیوی لذتوں کو چھوڑنے کا نظریہ رکھتے ہیں۔ اس کے جواب میں انھوںنے اپنی ماں کا حوالہ دے کر انکار کر دیا۔ یہی عدم اعتراف کا ذریعہ انسان کی ذہنی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ منی بھائع میک کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ میری مال نے مجھ کو غلط مشورہ دیا تھا ۔ مگر یہ نہ کہہ کر انھوں نے یہ کہا کہ دوبارہ اپنی ماں کا حوالہ دے کر وہ اس مادّی زندگی میں پھنس کر رہ گئے۔