Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14مئی 2006
ہندوستان ٹائمس (۱۴مئی ۲۰۰۶ء)میں صفحہ ۱۲ پر ایک رپورٹ چھپی ہے ۔ یہ در اصل ایک انٹر ویو ہے۔ یہ انٹر ویو مسٹر شونالی گنگلی (Shonali Ganguli)کے سے ہے ۔ جن کا انٹرویو لیا گیا ان کا نام منی بھائو میک (Mani Bhannik)ہے۔ منی بھائو میک بنگال کے ایک گائوں میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے سائنس کی تعلیم حاصل کی پھر وہ امریکا چلے گئے ۔ انھوںنے لیزر ٹکنالوجی (Laser Technology)میں کام کر کے بہت پیسہ کما یا۔ امریکا کے چار شہروںن میں ان کے بہت بڑے بڑے مکانات ہیں۔ بینک میں ان کی بہت بڑی رقم جمع ہے۔ انھوں نے ہر قسم کا لذت اور عیش کا تجربہ لیا لیکن انھیں تسکین حاصل نہ ہو سکی۔ انھوں نے کہا کہ کیا یہی سب کچھ ہے :
Is that all there is?
انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں لوگ آج کل پیشہ کماے اور مادی سامان اکھٹا کرنے کے لیے دوڑ رہے ہیںلیکن مغرب کی نقالی انھیں خوشی دینےوالی نہیں ہے :
Aping the west is not the way to happiness.