Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29ستمبر 2006
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر کو پہلا خلیفہ بنا یا گیا ، لیکن اُس وقت حالات میں بہت انتشار تھا۔ سارا معاملہ غیر یقینی معلوم ہوتا تھا ۔ عائشہ صدیقہ کہتی ہیں : فلمّا توفى رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم ارتدّت العرب .اس وقت ابوبکر صدیق کی زبان سے یہ الفاظ نکلے:أيُنقص الدّين وأنا حيّ .
Can and erosion takes place in the religion of God and I am live.
ابو بکر صدیق کا یہ قول ایک فرد کی آواز نہ تھی ۔ وہ در اصل صحابہ کی پوری جماعت کی آواز تھی۔ اس جملے میں اگر چہ ضمیر متکلم واحد استعمال ہوئی ہے ۔ مگر یہ در اصل اسلو ب کی بات ہے۔ اُس وقت کے ماحول میں اِسی جملے کا مطلب یہ تھا کہ کیا دین میں نقص واقع ہوگا، حالاں کہ میرے جیسے اصحاب رسول موجود ہیں۔ اگر اس وقت یہ صورت حال ہوتی کہ ایک بھی صحابی موجود نہ ہوتا اور ابو بکر صدیق بالکل تنہا ہوتے تو میں نہیں سمجھتا کہ ان کی زبان سے ایسے الفاظ نکلتے ۔ گویا کہ ابو بکر صدیق یہ کہہ رہے تھےکہ :أينقص الدين ونحن أحياء .