Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
15جون 2006
حدیث میںآیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا يدخل الجنة من نبت لحمُه من سُحت ، النار أولىٰ به .یعنی وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کا گوشت حرام کھانے سے بنے ، اس کے لیے آگ ہی بہتر ہے ۔(مسند احمد ، جلد ۳، صفحہ ۳۹۹)
اِس حدیث کولے کر علما ء اور صوفیا ء عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حرام آمدنی سے حاصل کی ہوئی غذا کے اثرات ہیں ، مگر یہ صحیح نہیں ۔ غذا خود ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے ، خواہ اس کو حرام آمدنی سے حاصل کیا جائے یا حلال آمدنی سے۔ اس سے مراد دراصل کھانے والے کی نفسیات ہے۔ جو آدمی حرام طریقے سے دولت حاصل کرے ، وہ اپنی نفسیات کو حرام اور حلا ل کے معاملے میں بے حس بنا رہا ہے ۔ ایسا شخص روحانی اعتبار سے بے حس شخصیت (Spiritually De-Senstized person)بن جاتا ہے ۔ حرام آمدی سے حاصل کی ہوئی غذا خود کمانے والے کے لیے بُری ہے ،لیکن کوئی اور شخص اگر اس غذا کوکھاتا ہے تو وہ اس کی برائی سے محفوظرہے گا ۔ اگر کسی کیس میں دوسرا شخص ایسی غذا سےمتاثر ہو تو اس کا سبب تعاون علی الدعم ہو گانہ کہ خود غذا۔