Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
10دسمبر 2006
یکم جنوری ۲۰۰۶ کو اِس سال کا حج ہے ۔ اس مناسبت سے آج کے ہفتے وار کلاس میں میںنے حج ک موضوع بیا یا۔ میری تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ حج دعوہ ورک کا رہرسل ہے ۔ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ :ماھذہ الاصاحیی یا رسول ، آپ نے فرمایا کہ :سنة أبيكم ابراهيم۔ میںنے کہا کہ حضرت ابراہیم ایک انٹرنیشنل داعی تھے، انھوں نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے کا عمل کو لے کر ایک عظیم دعوتی مشن چلایا ۔ میں نے کہا کہ جس طرح عسائیوں میں ایک ہولی فیملی کا تصور ہے ۔ اسی طرح اسلام میں ایک دعوہ فیملی ہے ۔ جس میں ابراہیم اور اسماعیل او ر ہاجرہ شامل ہیں۔ حج کے تمام مراسم اسی دعوہ فیملی کے تجربات کا شرعیتی اِعادہ ہیں ۔ حج کا اصل مقصد دعوہ ورکی عالمی تنظیم ہے ۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خاتمے پر صحابہ سے کہا کہ تم لوگ دعوت الی اللہ کے لیے دنیا میں پھیل جائو ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار تھی۔ آج مکہ اور مدینہ میں صرف دس ہزار صحابہ کی قبریں ملتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک لاکھ تیس ہزار صحابہ دعوت الی اللہ کے لیے باہر کے ملکوں میں چلے گئے اور اپنا کام کرنے کے بعد وہیں دفن ہو گئے۔