Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
24مارچ 2006
ماہنامہ ترجمان دارالعلوم (نئی دہلی)کے شمارہ جنوری -فروری 06میں ایک مضمون اس عنوان تحت چھپا ہے : پروفیسر عبدالحلیم ندوۃ: معلّم، محقق اور ادیب چھپا ہے۔ اس کے لکھنے والے ڈاکٹر شفیق احمدندوی ہیں۔ پروفیسر عبد الحلیم ندوی کو غالباً ایک بار میں نے دور سے دیکھا ۔ البتہ دوسروں سے کی کافی تعریف سُنتا رہا ہوں۔ وہ 1926کو پیدا ہوئے ۔ اور2005میں نئی دہلی میں اُن کا انتقال ہوا۔ مضمون نگار نے لکھا ہے کہ تیرھویں صدی عیسویں کے نا مور عالم شہاب الدین احمد بن عبد الوہاب نویری (677ھ732)نےعلوم اوّلین پر مشتمل 30جلدوں میں 4500صفحات پر مشتمل ایک انسائکلو پیڈیا قلم بند کیا تھا۔ جو مخلوطے کی شکل میں قاہرہ میں موجود تھا۔ اس کو مشہور مصری محقق زکی مبارک استنبول سے فوٹوکرا کر لائے تھے۔ جس کی بیس جلد یں شائع ہوچکی ہیں۔ ندوی صاحب قاہرہ میںڈاکٹر نے سہیر قلماوی کے مشورے سے اس انسائکلوپیڈیا کے تمام اخرا کا گہرا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ کیا۔ اور پھر منهج النويرى في كتابه نهاية الأرب في فنون الأدب ( بحث ، و دراسة مقارنة ، ونقد )کے نام سے 288صفحات پر مشتمل ایک کتاب دارالفکر ، دمشق (شام)سے1987میں شائع کی۔ مرحوم کایہ ایک کارنامہ تھا۔جس کو شائع کرنے سے پہلے علی گڑھ میں انھوںنے پی۔ ایچ ۔ڈی کے لیے داخل کیا تھا اور اس پر یہ ڈگری حاصل کی تھی۔(صفحہ:62)
اس قسم کی کتابیں موجودہ زمانے میں عرب دنیا سے بہت چھپیں ۔ ان کو التُّراث العربي کہاجاتا ہے ۔ میرے نزدیک اِس قسم کی کتابیں صرف ادھورے معنوں میں علمی کتابیں ہیں۔ ان کتابوںکے سبب کی مفروضہ عظمت تو فرقہ قائم ہوتی ۔ لیکن اس قسم کی کتابیںیہ نہیں بتاتیں کہ اسلا م کو اسبع کے انسان کےلیے کس طرح قابلِ اعتبار بنا یاجاسکتا ہے۔