Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
22جنوری 2006
ایک روایت ، حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے ۔ بعض نے اس کو تفصیلی طور پر نقل کیا ہے ،اور بعض نے مختصر طور پر مختلف روایتوں کو لے کر جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ اچھی جگہ کو ن ہے، اور سب سے زیادہ بُری جگہ کو ن ہے ۔ آپ نے فرمایا یہ بات مجھے بھی نہیں معلوم ۔اس کے بعد جبریل آئے تو آپ نے ان سےسامنےیہ سوال رکھا ۔ جبریل نے کہا مجھے بھی نہیں معلوم ۔ اس کے بعد جبریل آسمان کی طرف بلند ہوئے یہاں تک کہ اُن کے الفاظ میں خدا سےاتنا قریب ہوئے جتنا قریب وہ اسی سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ انھوں نے خدا سے اِس سوال کا جواب دریافت کیا ۔خدا نے اِس کے جواب میںفرمایا: أحَبّ البلاد إلى الله مساجدها ، وأبغض البلاد إلى اللّٰه أسواقها ( صحيح مسلم بشرح النووى جلد ٥ ، صفحه ١٧١ ، مسند احمد ، جلد ٤ ، صفحه ٨١ )بعض دوسری روایات میں یہ الفاظ آئے ہی:خير المقام إلى اللّٰه مساجدها واشرّ المقام إلى اللّٰه اسواقها .
اِسی حدیث میں أسواق(بازار)کالفظ مطلق شر کے معنی ہی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو قرآن میں پیغمبر کے بارے میں یہ نہ ہوتاکہ:يمشى في الأسواق ( الفرقان : ٧ )اِس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بازار مُذکر دنیا (دنیا یاد دلانے والی )جگہ ہیں ، اور مسجد مذکر آخرت(آخرت کو یاد دلانے والی )جگہ ہے۔ دونوں کے درمیان یہ تقابل اسی اعتبار سے ہے۔