Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
9مارچ 2006
مغربی تہذیب میں عورت اور مرد کا ورک پلیس ایک قرار دیا گیا ہے ۔اس کو یہ لوگ صنفی مساوات کہتے ہیں۔ مگر یہ ایک غیر فطری بات ہے ۔فطرت کے قانون کے مطابق زیادہ صحیح بات ہے کہ عورت اور مرد دونوں کا ورک پلیس الگ الگ ہے۔
ورک پلیس الگ ہونے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ دونوں کو بہترین ایڈوائزر مل جاتا ہے بہترین ایڈوائزر وہ ہے جو کھلے ذہن کے ساتھ معاملے پر غور کریں۔ جب کسی شخص کو کوئی بحران پیش آتا۔ تو وہ اس وقت ایک متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ ایسی حکمت میںضرورت ہوتی ہے کہ ایک غیر متاثر ذہن کو جو اس کو درست فیصلہ دے سکے۔ اس معاملے کی ایک مثال وہ ہے جو شہنشاہ اکبر کی زندگی میں ملتی ہے۔ اکبر کی ابتدائی زندگی میں ملّا عبدالنبی اس کو پڑھایا تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ملا عبدالنبی اکبر کے دربار میں آئیں ۔یہ ہندو تہوار کا دن تھا ۔ہندو جذبات کی رعایت کے لیے اکبر نے گیرواں کپڑا پہن رکھا تھا۔ملا عبدالنبی نے جب اکبر کو گیروے لباس میں دیکھا تو وہ غصہ ہو گئے اور اکبر کو برسر دربار اپنے ڈنڈے سے مار دیا۔ اکبر کو اس پر سخت صدمہ پہنچا وہ خاموشی کے ساتھ محل کے اندر چلا گیا ۔وہاں اکبر کی ماں مریم مکانی موجود تھی اکبر دکھ کے ساتھ اپنی ماں سے ملا۔ عبدالنبی کا قصہ بیان کیا۔ مریم مکانی نے کہا بیٹے ملا عبدالنبی کو معاف کر دو۔ تاریخ میں لکھا جائے گا کہ ایک ملّانے شہزادے کو مارا لیکن شہنشاہ اس کو معاف کر دیا۔ اس واقعہ اکبر کی حیثیت متاثر ذہن کی تھی۔ جبکہ مریم مکانی واقعے سے الگ ہونے کی بنا پر غیر متاثر ذہن کی مالک تھی۔ اس لیے مریم مکانی کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ شہنشاہ اکبرکو مذکورہ قسم کا ایک مشورہ دے سکیں۔