Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23ستمبر 2006
سورہ العنکبوت میں قرآن کے بارے میں آیا ہے : بل هو آيات بيّنات في صدور الذين أوتوا العلم ( ٤٩ )اس سے معلوم ہوا کہ قرآن فطرت انسانی کی آواز ہے ۔ قرآن خود انسانی فطر ت کا مثنیٰ ہے ۔ قرآن فہمی کے لیے سب سے اہم نکتہ یہی ہے ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنی فطرت میں چھپے ہوئے قرآن کو جانے ، اس کے بعد ہی وہ قرآن کو سمجھ سکتا ہے ۔
یہ چیز فطرت کے قانون کے عین مطابق ہے۔ ہم کسی بھی چیز کو اُسی وقت جان پاتے ہیں جب کہ اس کا ہمارے ذہن مین موجود ہو۔ مثلاً قلم کا شعور پہلے سے انسانی ذہن میں موجود ہے ۔ اس وقت آدمی قلم کو قلم کی حیثیت سے سمجھ پاتا ہے ۔ اگر شعورِ فطرت میں قلم کا تصور موجود ہو تو آدمی قلم کو شاید کُھرپی سمجھ لے اور اس سے اپنے گملے کی مٹی کھودنے لگے، یا قلم کو چمچہ سمجھ کے اور چائے میں ڈال کر اس کے ذریعے شکر گھولنے لگے۔
تدبّر اور تفّکر کے ذریعے یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اندر کے قرآن کو دریافت کر لیتا ہے ۔ اور جب اندر کا قرآن دریافت ہو جائے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ باہر کے قرآن کو سمجھ سکے۔