Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
28فروری 2013
مولانا محی الدین غازی ایک درس گاہ میں قران کا درس دیتے ہیں ۔ایک طالب علم نے ان سے پوچھا کہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر فاروق سورہ البقرہ 10 سال تک پڑھتے رہے ۔قران میں اِس دس سالہ تدبر کا نتیجہ آج تفسیری صورت میں موجود نہیں ہیں۔ علامہ البیضادری نے سورہ البقرہ میں تدبیر کیا تو انہوں نے اس کی لمبی تفسیر لکھ ڈالی۔ مگر حضرت عمر فاروق کے نتائج تدبر سے لوگوں کے لیے غیر معلوم ہو گئے۔
اگرچہ حضرت عمر کی تفسیر( التفسير المأثور عن عمر بن الخطاب ) ٨٥٠صفحات کی موجود ہے لیکن معروف معنوں میں وہ کوئی تفسیر قران نہیں ۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں قران میں تدبر کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے تفسیر لکھنے کے لیے تدبر کرنا، اور دوسرا ہے اپنی شخصیت کی تعمیر کےلیےتدبر کرنا۔ رسول اللہ بلا شبہ قران میں تدبر کرتے تھے۔ لیکن معروف معنوں میں کوئی تفسیر نبوی موجود نہیں۔ حضرت عائشہ نے آپ کے بارے میں فرمایا كان خلقه القرآن .دوسرے لفظوں میں کہا کہ : کان حیاتہ تفسیر القرآن۔
میںسمجھتا ہوں کہ حضرت عمر رسمی انداز میں تدبر نہیں کرتے تھے بلکہ قرآن ان کے دماغ میں ہوتا تھا اور وہ بار بار اس کو اپنے دماغ میں تازہ کر کے اس پر غور کرتے رہتے تھے۔اس طرح وہ قران کے معنی کو دریافت کرتے رہتے تھے۔ اوروہ ان کی زندگی کا جز بنتا رہتا تھا۔ حضرت عمر کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ قرآن کے معنی کو نہایت گہرائی کے ساتھ اخذ کیے ہوئے تھے ۔ان کی زندگی قرآن پر مبنی زندگی بن گئی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی تمام صحابہ کا طریقہ تھا۔ وہ قران کو اپنے تعمیر ذہن کے لیے پڑھتے تھے نہ کہ تفسیر لکھنے کے لیے۔ حضرت عمر کی زندگی کا اس اعتبار سے مطالعہ کیا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا :كان حياته تفسير القرآن .آپ کے تدبر قرآن کے نتائج کو کسی تفسیری کتاب میں نہیں بلکہ آپ کے اقوال اور اعمال کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔