Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
24اکتوبر 2006
آج عید الفطر کا دن تھا ۔ میں نے کچھ لوگوں کے ساتھ پنڈارہ روڈ (نئی دہلی )کی مسجد میں نماز پڑھی ۔ میں ایک کنارے بیٹھا ہوا تھا۔ اپنے عجز کو سوچتے ہوئے سر سید کا ایک واقعہ یاد آیا۔ سر سید نے علی گڑھ کی تعلیمی تحریک چلائی تو روایت پسند طبقہ سخت مخالف ہو گیا۔ سر سید ایک مسلم نواب کے یہاں چندے کے لیے گئے ۔ وہ سر سید کے مخالف تھے ۔ انھوں نے سر سید سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد سر سید باہر آئے۔ نواب صاحب کی کوٹھی پر باہر نکلتے تو وہ فقیروں کو پیسہ دیتے ہوئے جاتے ۔ سر سید کو فقیروں کی صف میں دیکھ کر نوا ب صاحب کو تعجب ہو ا ۔ انھوں نے کہا کہ سر سید تم یہاں کہاں ۔ سر سید نے کہا کہ یہاں میں اِ س لیے بیٹھا ہوں کہ اگر آپ مجھ کو چندہ نہیں دے سکتے تو بھیک تو دے سکتے ہیں ۔
یہ واقعہ سو چتے ہوئے میرا دل بھر آیا ۔ میں نے کہا کہ خدا یا ۔ میرے اعمال اِ س قابل نہیں کہ تو مجھے انعام دے ۔ جو چیز مجھے انعام کے طور پر نہیں مل سکتی اس کو تو مجھے بھیک کے طور پر دے دے ۔