Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
26ستمبر 2006
مسٹر احسن تہامی لاہور میں رہتے ہیں۔ وہ دہلی کی بُک فئر کو دیکھنےکےلیے یہاں آئے۔اُن سے چندملاقاتیں ہوئیں، وہ مولاناابو الاعلی مودودی ،مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا جاوید احمد غامدلی تینوںسےلمبے عرصے تک بہت قریب رہے ہیں ۔ میںنے پوچھا کہ اِ ن حضرات سے آپ نےجو خاص باتیںسیکھیں ان میں سے کوئی ایک بات بتائیے،مگر وہ کوئی خاص بات نہ بتاسکے ۔مولانا جاوید احمدغامدلی کی وہ بہت زیادہ تعریف کرتے ہیں، مگر ان کی بھی کوئی خاص بات انھوں نے نہیں بتائی ۔ انھوںنے بتایا کہ مولانا امین احسن اصلاحی نے ایک بار کہا کہ ’’قرآن شر گذشت انذار ہے‘‘۔
میرے نزدیک یہ قرآن کا صرف ایک ناقص تعارف ہے۔ ’’ شر گذشت انذار‘‘کا لفظ سامع کے ذہن میں یہ تاثر دیتا ہے کہ قرآن ،ماضی کے کچھ واقعات کی داستان ہے۔آج کےلحاظ سے قرآن ایک غیر متعلق (Irrelevant)کتاب ہے۔اِ س میں آج کے انسان کو ایڈرس کرنے کےلیے کوئی بات نہیں۔ میں نے کہا کہ مولانا امین احسن اصلاحی نےاپنی ساری عمرقرآن کے مطالعے میںصرف کی اور آپ بھی بیس سال تک اُن سے وابستہ رہے ، اس کے باوجود مولانااصلاحی یا آپ قرآن کی کوئی ایسی بات دریافت نہ کر سکے جو آج کے انسان کو بتانے کے قابل ہو۔