Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
سرآمد روزگار این فقیرے دگر دانای راز آید که ناید؟
میرے نزدیک یہ دانائے راز کی بات نہیں ہے بلکہ راز سے بے خبری کی بات ہے ۔ زندگی کا قانون یہ ہے کہ کوئی شخص بہت لمبی عمر نہی پاتا، اور نہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک ــ’’دانائے راز‘‘ کے بعد فوراً ہی دوسرا دانائے راز کھڑا ہو جائے۔ اِس قسم کا تسلسل قانونِ فطرت کے مطابق نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ ’’دانائے راز‘‘ تربیت یافتہ انسانوں کی ایک ٹیم بنائے جو اس کے بعد اس کے کام کر جاری رکھے۔
اقبال کو 61سال کی عمر رملی۔ ان کے لیے کرنے کانام یہ تھا کہ وہ کم از کم ایک درجن افراد کی تربیت یافتہ ٹیم بناتے جو اُن کے مشن کو ان کے بعد جاری رکھے۔ مگر اقبال نے ایسا نہیں کیا۔ یہی طریقہ قانونِ فطرت کے مطابق تھا۔ اِس کے بجائے انھوں نے یہ چایا کہ ان کے بعد انھیں جیسا ایک دانائے راز وجود میں آئے ۔ عملاً ایسا ممکن نہ تھا۔ اِس لیے ان کا مشن ان کے ساتھ ختم ہو گیا۔ مثلاً ان کے مشن کے مطابق ، جب 1947میں پاکستان بنا تو پاکستان کو صحیح رخ پر چلانے کے لیے کوئی ٹیم موجود نہ تھی۔ اس لیے پاکستان تو مگر وہ اقبال کا مطلوب پاکستان نہ بن سکا۔