Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20اگست 2006
۲۰اگست ۲۰۰۶ ء کو حسب معمول ہفتے وار اسپریچول کلاس تھی ۔ اس بات تقریرکا موضوع ریشنل ازم تھا ۔ اس موضوع پر میںنے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کی ۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ -ہر زمانے میں پڑھے لکھے لوگ سب سے زیادہ جو لفظ بولتے رہے ہیں وہ ریشنل ازم ہے ۔ ہر پڑھا لکھا آدمی اپنے آپ کو ریشنلسٹ کہنا پسند کر تا ہے ۔ مگر یہ کہنے کی جرأت کروں گا کہ پوری تاریخ میں صحیح معنو ں میں کوئی ایک شخص بھی ریشنلسٹ نہیں ۔ میں نے کہا کہ ریشنلسٹ بننے کا آغاز جہاں سے ہوتا ہے وہ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشنگ ہے۔ مگر تاریخ میں یہ تصور سرے سے موجود ہی نہ تھا ۔ لوگوں کا یہ خیال تھا کہ عقل کا نام لے کر کچھ بھی بولنا۔اسی کا نام ریشنل ازم ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ پیدا ہوتے ہی آدمی کی کنڈیشنگ شرو ع ہو جاتی ہے ۔ مگر یہ بات تاریخ میں سب سے پہلے امریکا کے پروفیسر جے پی واٹسن نے بتائی ۔ جن کی کتاب بیہویرازم (Behaviorism) ۱۹۲۵میں چھپی ۔ تاہم یہ دریافت ادھوری تھی ۔ کیوں کہ اس نے کنڈیشنگ کو جانا ، مگر ڈی کنڈیشنگ سے وہ مکمل طور پر بے خبر رہا ۔ حتیٰ کہ اس نے یہ سمجھا کہ کنڈینشنگ کے ذریعے انسان کی جو شخصیت بنتی ہے ، وہی اس کی اصل شخصیت ہے۔ ڈی کنڈیشنگ کا تصور ابھی حال میں پیدا ہوا ہے ۔ وہ بھی اس سن میں کہ لوگ ڈی کنڈیشنگ کو ڈی اسٹر لینگ کے معنی میں لیتے ہیں ۔ یعنی ذہن سے ٹنشن کو نکالنا ۔ میں نے کہا کہ میں تاریخ میں پہلا شخص ہوں جس نے ڈی کنڈیشنگ کو مائنڈ کی ری انجینئر نگ کے معنی میں سمجھا اور اپنی کنڈیشنگ کی ڈی کنڈیشنگ کی۔ اس کے لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ہی صحیح معنوں میں ریشنلسٹ ہوں۔ کیوں کہ ڈی کنڈیشنگ کے بغیر کوئی شخص ریشنلسٹ نہیں بن سکتا ۔ اور تاریخ میں معلوم طور پر کسی کے ساتھ یہ پراسس پیش نہیں آیا۔